Adabee Forum
Birmingham، Leeds · 2011 سے اردو ادب کی خدمت

ناول

یمبرزل

یمبرزل ناول

ابواب کی فہرست

# باب
1 Yemberzal
<p>یمبرزل</p><p>ترنّم ریاض</p><p>وَوَصَیَّنَا الاِنسَانَ بوالِدَیہ حَملَتہُ اُمُّہُ وہنا عَلیٰ</p><p>اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اُس کے ماں باپ کے واسطے پیٹ میں رکھا اُس کو اُس کی ماں نے تھک تھک کر۔</p><p>We have enjoined on the human being to be kind to the parents in travail upon travail did their mother bore them.</p><p>یمبرزل</p><p>(افسانے)</p><p>ترنّم ریاض</p><p>سیادت</p><p>شجاعت</p><p>اور</p><p>یامین</p><p>کے لیے</p><p>جنھوں نے مجھے ممتا سے پہلے ممتا سے آشنا کیا</p><p><br></p><p><br></p><p>شرلی</p><p>اور</p><p>منو</p><p>کی محبتوں کے نام</p><p>کشتی</p><p><br></p><p>&quot;ارے ہٹو ۔ ۔ ۔ ہٹو۔ ۔ ۔ ہٹو بھائی۔ ۔ ۔ ایک طرف ہو جاؤ۔&quot;</p><p>ٹیلیفون بوتھ کے پاس کھڑے کچھ لوگوں میں سے ایک ادھیڑ عمر شخص نے باقی چار چھ لوگوں کو ہاتھوں سے ذرا ذرا سا پرے کرتے ہوئے نو وارد کے چہرے کی طرف بڑے خوش آمدانہ انداز میں دیکھتے ہوئے اس کے لیے راستہ بنایا۔</p><p>&quot;نہیں نہیں ۔میں اپنی باری سے فون کر لوں گا۔&quot; آنے والے نوجوان نے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا۔ &quot;پلیز، ایسی کوئی بات نہیں ۔ ۔ ۔ آپ لوگ تو مجھ سے پہلے کے کھڑے ہیں ۔&quot;</p><p>نوجوان کا رنگ سانولا تھا، جسم صحت مند۔ وردی پہنے وہ خاصہ چاق و چوبند نظر آ رہا تھا۔ اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو اس کی نظر ایک جگہ پر رکی رہ گئی۔ دو آدمیوں نے ایک آٹھ نو سالہ لڑکے کو گود میں لے رکھا تھا۔ ٹانگیں تھام رکھنے والے شخص کے سفید پائجامے پر بچےّ کے جسم سے رسنے والے خون کے دھبےّ بڑے ہوتے جا رہے تھے۔ نوجوان گھبرا کر بچےّ کے قریب آگیا۔</p><p>&quot;آپ پلیز جلدی کیجئے۔ کسے فون کرنا ہے،اس نے ایک کندھے سے لٹکی بندوق اتار کر دوسرے کندھے پر رکھی اور ٹیلی فون بوتھ کی طرف لپکا۔</p><p>&quot;نمبر بتائیے۔ میں کرتا ہوں ڈائل۔ خون بہہ رہا ہے۔جلدی۔&quot;</p><p>&quot;مگر صاب جی۔&quot; ادھیڑ عمر کا شخص کچھ کہنے لگا تھا کہ بندوق پر اس کا ہاتھ دیکھ کر باقی لوگوں کی طرح وہ بھی پل بھر کے لیے ٹھٹھک گیا مگر اب اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک سی نظر آ رہی تھی۔ اس نے آگے کچھ نہ کہہ کر نمبر بتایا۔</p><p>نوجوان نمبر ملا چکا تو اس شخص نے آگے بڑھ کر اپنی علاقائی زبان میں کچھ کہا، اور بچےّ کے قریب لوٹ آیا۔ بندوق بردار نوجوان نے دوبارہ ان لوگوں کی جانب نگاہ ڈالی کہ شاید کسی اور کو فون کرنا ہو۔مگر کسی کو متوجہ نہ پا کر وہ فون کی طرف پلٹا۔</p><p>دور سے کوئی عورت تیز تیز قدم اٹھاتی ٹیلیفون بوتھ کی طرف آ رہی تھی۔ فون کے پاس بندوق بردار نوجوان دیکھ کر رک گئی اور باقی لوگوں کو دیکھنے لگی۔</p><p>&quot;کک۔ ۔ ۔ کیا ہوا؟ خون دیکھ کر اس نے جانے کس سے پوچھا تھا۔ پاؤں پکڑنے والے کی پوری ٹانگ سرخ ہو گئی تھی۔</p><p>&quot;تم لوگ کھڑے ہو۔ کچھ زخم پر باندھا بھی نہیں ۔ اسپتال لے جاؤ نا۔ ایسے تو سارا خون۔ ۔ ۔ &quot;</p><p>عورت نے ایک جھٹکے میں رومال نما مربع ساخت کا دوپٹہ کھینچا جو اس کے ماتھے سے ہوتا ہوا سرکے پچھلے حصّے تک چلا گیا تھا اور وہاں اس نے اس میں ڈھیلی سی گرہ ڈال رکھی تھی۔ اس نے دوپٹے کو پھاڑ کر دو حصوں میں تقسیم کیا۔</p><p>&quot;ہم لوگ بس گاڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آگے کرفیو ہے۔وہ گھر سے نکل چکے ہیں ۔ راستے میں تلاشیاں ہو رہی ہوں گی۔ رکنا پڑ رہا ہو گا انھیں بار بار۔&quot;</p><p>ادھیڑ عمر شخص نے بچےّ کی پتلون نیچے کو سرکائی۔ عورت اس کی ران پر پٹیّ باندھنے لگی تو با وردی</p>
صفحہ 1 از 106
پر جائیں: