شاعری
ابواب کی فہرست
| # | باب | |
|---|---|---|
| 1 | 1st |
<p id="isPasted">ایک جگنو ہی سہی</p><p>سعد اللہ شاہ</p><p>فہرست</p><p>انتساب</p><p>انجمن تاجران لاہو رکے چیئرمین اور اردو بازار کے صدر</p><p>محترم خالد پرویز</p><p>کے نام</p><p>کہ ان کا شمار اُن خوش نصیبوں میں ہے کہ جن پر اللہ کی عنایات بارانِ گلہائے رنگارنگ کی صورت برس رہی ہیں۔ وہ انہی چنیدہ لوگوں میں سے ہیں جن کو خلقِ خدا کی محبت انعام ہوتی ہے شاید انہی کے بارے میں میں نے کہا تھا:</p><p>جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انہیں زندہ سمجھو</p><p>پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں</p><p>منزلیں ان کا مقدر کہ طلب ہو جن کو</p><p>بے طلب لوگ تو منزل سے گزر جاتے ہیں</p><p>میں خواب سے آگے کا سفر مانگتا ہوں</p><p>اے کاہکشاں ! راہ گزر مانگتا ہوں</p><p>میں شاہ سہی پر ہوں طلب گارِ سخن</p><p>خیرات میں مَیں کارِ ہنر مانگتا ہوں</p><p>اپنی بات</p><p>یہ اس وقت کی بات ہے جب سانحۂ لال مسجد نے سب کچھ خون آشام کر دیا تھا۔ لوگ خون کے آنسو رو رہے تھے کہ اپنی ہی پاک دھرتی پر امریکی ایجنٹوں نے اپنی پھول سی بچیوں کو فاسفورس پھینک کر بھسم کر دیا اور اس غیر انسانی اور بدتر از حیوانی کار روائی پر حمیت سے عاری، بے حیا سپاہی وکٹری کے نشان بنا رہے تھے۔ اس سانحۂ قیامت خیز کے ایک دو یوم بعد ایوانِ عدل میں ایک مزاحمتی مشاعرہ منعقد ہوا،جس میں علی احمد کر د، منیر اے ملک، پیر کلیم خورشید گیلانی اور محمد شاہ پیش پیش تھے۔ اس وقت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد بھی متوقع تھی کہ وہ میلوں لمبے جلوس کے جلو میں اسلام آباد سے لاہور کی طرف گامزن تھے۔ میں نے اسی مشاعرے میں دو اشعار عبدالرشید غازی شہید کے نام سے منسوب کر کے پڑھے :</p><p>اے مرے دوست! ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں</p><p>میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ</p><p>وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں</p><p>کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھوکلا کا جوش اور نعرے دیدنی تھے۔ ایک ولولۂ تازہ</p>
صفحہ
1 از 19
پر جائیں: